آ گئے ہیں چھوڑ کر ساحل کو ہم یہ سوچ کر
دیکھتے ہیں لُطف کتنا دورئ ساحل میں ہے
حُسن کے جلوے ہیں بکھرے جس طرف اُٹھّے نگاہ
جانے کیا تاثیر اِس خطے کے آب و گِل میں ہے
یہ تھے جناب محمد حفیظ الرحمٰن صاحب جو اپنے کلام سے مشاعرہ کی رونق بڑھا رہے تھے.
اب میں دعوتِ سخن دینے جا رہا ہوں جناب نوید رزاق بٹ...
اک تڑپ بانسری کی لے میں تھی
ساز گویا صدائے وحشت تھا
یہ میرا عکس ہے تو مگر اجنبی سا ہے
کیوں کر مجھے مجھی سی چُھپاتا ہے آئینہ
کب دل کے آئینے میں کھلا کرتے ہیں گُلاب
کب آئینے میں پھول کھلاتا ہے آئینہ
یہ تھے جناب محمد احمد صاحب جو مشاعرہ کو اپنے خوبصورت کلام کی خوشبو سے مہکا رہے تھے.
اب میں...
کچھ تو انفرادیت ہونی چاہیے محفل مشاعرہ کی۔ :)
بہت عمدہ کلام راحیل بھائی. لاجواب. بہت منفرد انداز سے خیالات پیش کئے ہیں. ڈھیروں داد.
سفارش کرنے پر ممنون ہوں۔ :)
دفتر ہونے کی وجہ سے ابھی کلامِ شاعر بزبانِ شاعر سے محظوظ نہیں ہو سکا ہوں۔ اس پر تبصرہ ادھار ہے۔ :)
عاشق و موسیٰ میں اب ایسا بھی کیا امتیاز؟
ہمبھی ہیں مشتاق کر، ہم سے بھی راز و نیاز
کشمکشِ زندگی سے ہے عروجِِ امم
جہدِ مسلسل میں ہے رفعتِ قومی کا راز
یہ تھے جناب شکیب احمد صاحب، جو اپنے خوبصورت کلام سے قارئین کی دلچسپی کا سامان کر رہے تھے.
اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں، محفل کی ہر دل عزیز...
بہت خوب حسن بھائی۔ اصلاح کا کام تو اساتذہ ہی جانیں۔ اپنی لا علمی کے باعث کچھ سوالات
اٹھن لفظ کبھی مستعمل نہیں دیکھا۔ اٹھان سنا ہے البتہ۔
یہ لفظ بھی سمجھ نہیں آیا
یہاں غالباً طرح ہے؟ اور اگر طرح ہے تو وزن شاید غلط باندھا ہے۔
اب شرارت نہ ہی کریں تو اچھا ہے۔
اب کچھ اس طرح کے سٹیٹس اپلوڈ کرنے پڑیں گے۔
"پاکستان خوش حالی اور ترقی کی راہ پر گامزن"
"ملک سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کرنے پر حکومت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔"
"ٹیکسوں میں چھوٹ دینے پر اسحاق ڈار کے ممنون ہیں۔"