زخم اپنے چھپائے پھرتے ہیں
یہ سدا مسکرانے والے لوگ
اپنے گھر کے ہی آدمی نکلے
میرے گھر کو جلانے والے لوگ
یہ تھے جناب ارشد خان صاحب جو اپنے کلام سے قارئین کو محظوظ کر رہے تھے۔
اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں جناب فقیر شکیب احمد صاحب کو کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔
جناب شکیب احمد صاحب
بہت شکریہ جناب۔
میرے دادا مرحوم کو یہ نظم بہت پسند تھی۔ انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھی ہوئی تھی، اور فرمائش پر سنایا بھی کرتے تھے۔
نیٹ پر کافی تلاش کرنے کے باوجود نہ ملی تو پھر خود ہی ٹائپ کر کے یہاں پوسٹ کی۔ :)
بھٹو، ضیاء، بے نظیر اور نواز شریف کے حوالے سے سابق سفیر کرامت اللہ غوری صاحب کی کتاب بارِ شناسائی بھی ایک دلچسپ کتاب ہے. ضروری نہیں کہ مصنف کی ہر بات سے اتفاق کیا جائے.
انہوں نے ان افراد کے ساتھ گزرے لمحات میں جو مشاہدات کئے، ان کو قلم بند کیا ہے.
لکھا نہیں جو مقدر میں دینے والے نے
ملا نہیں تو پھر اس پر ملال کیسا ہے
قتل کرنے کو ایک کافی ہے
کر سلیقے سے وار پہلو میں
اُن سے پہلو تہی نہیں ہوتی
جن کا رہتا ہو پیار پہلو میں
یہ تھے جناب حسن محمود جماعتی صاحب جو اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرہ کو مہکا رہے تھے.
آن لائن مشاعرہ میں شعراء اور...