یہ گانا اسی اشتہار کے لئے لکھا اور گایا گیا ہے اور پورا گانا بھی نہیں، محض چھوٹا سا کلپ ہے۔ یہ دوسرا گانا جو ابھی نیچے شیئر کر رہا ہوں، وہ میرے خیال میں اصل گانا ہے جس سے اوپر والا گانا بنایا گیا ہے :)
باغ بہشت میں جانے کے لئے پہلے اس دنیا سے رخصت ہونا پڑے گا پھر حساب کتاب کے لئے قیامت کا انتظار اور پھر جب سب کچھ ٹھیک ہوا تو پھر ملاقات ہوگی۔ ویسے جو کام ادھر کر سکتے ہیں، وہ لازمی اتنی مستقبل بعید کے لئے چھوڑنا ہے؟ :daydreaming:
میں بہت کم ٹی وی دیکھتا ہوں اور اشتہارات سے تو جان ہی جاتی ہے۔ تاہم یہ ایک پنیر کا اشتہار اپنے گانے اور اپنے مناظر کی وجہ سے بہت پسند ہے۔ آپ بھی دیکھیئے۔ صرف یو ٹیوب پر چلے گا فی الوقت تو
مایوسی ہی ہوئی کہ اس دنیا میں محض 180 کلومیٹر کا فاصلہ پھلانگنے کے لئے باغِ بہشت تک جانا پڑے گا :) یا پھر باغِ بہشت کسی مقامی ریستوران کا نام تو نہیں رکھا ہوا :)
کسی زمانے اشتہار چلتے تھے جس کی پنچ لائن ہوتی تھی
پرائس لیس
اسی طرح اس تصویر میں سارا متن، سارے لیڈران کی تصاویر دیکھ لیں، پھر آخر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے چہرے کے تائثرات دیکھیں۔ اٹس پرائس لیس
آپ نے آخری بار کب ڈائیوو پر سفر کیا؟ اس بار تو مجھے نیو خان کے ڈرائیور والی کٹ یاد آ تی رہی :) بس کی حالت بھی وہی تھی جو ڈرائیور کی۔ اسے استعارے کے طور پر پبلک ٹرانسپورٹ سمجھ لیجیئے
حیرت ہے کہ یہ دھاگہ ابھی تک بند نہیں ہوا
بھئی سیدھی سی بات ہے کہ اس دورِ حکومت میں نے ایک بات جانی۔ پاکستان کا سفر کرنا ہے تو کبھی پی آئی اے کو نہیں بک کرنا اور نہ ہی کسی قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بشمول ڈائیوو، پاکستان ریلوے وغیرہ، پر اعتبار کرنا ہے
قیصرانی میرے قبیلے کا نام ہے اور قبیلے وغیرہ محض شناخت کا کام دیتے ہیں۔ تو یہاں بھی وہی شناخت ہے۔ ویسے میرے سارے ای میل ایڈریس اسی نام سے ہی ہیں، ماسوائے ورک ایڈریس کے، وہاں اصل نام ہے