ریختہ صفحہ 105
سب وہاں بیٹھے رہے ۔گل بادشاہ کو بھی اس سیر کی خبر پہنچی، فورا تحت ہوا پر سوار ہوا، موج کی مانند اس دریائے حسن کی ہوا میں آ پہنچا۔ اس ماہ جبین کو اندھیرے میں تنہا پایا، اپنے بیگانے کی نظر سے محفوظ، قرب یار سے محظوظ ہوا۔ یار ائے ضبط نہ رہا، بے ساختہ اگر شاہ کو سینے سے لگایا۔ جھٹ پٹ...