نہہاں آ رہا نہ یقین مگر ایسا ہی ہے۔ اور اس میں سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اتنا سارا وقت بچا ہے۔ چائے پینے کے دوران ہم چائے ہی پیتے تھے دنیا کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔
عجیب دکھ سے دل بے زبان روتا ہے
مکین گھر میں نہیں ہیں مکان روتا ہے
یہ گھر، یہ راستے، آنکھیں مری ،مری نظمیں
تری جدائی کا اک نشان روتا ہے
( فرحت عباس شاہ)
ہم شہر میں جب رسم وفا لائے ہوئے تھے
وہ چپ تھی در و بام بھی گھبرائے ہوئے تھے
بارش کو سمیٹے ہوئے تھے پلکوں کے اندر
بادل سے کوئی آنکھ میں لہرائے ہوئے تھے
( فرحت عباس شاہ)
ایک شعر ہماری طرف سے بھی۔۔ اس کا حشر نشر کرنا آپ کے ذمہ ( فرحت عباس شاہ سے معذرت کے ساتھ)
ہم پرندے ہیں نہ مقتول ہوائیں پھر بھی
آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں