ایک نمونہ انٹرنیٹ سے ملا ہے ۔ ذرا خستہ و شکستہ سی لڑکھڑاتی کتابت ہے ۔نامعلوم۔
غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی
یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی
اپنے غم کو گیت بناکے گا لینا
راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی
تو مجھ کو اور میں تجھ کو سمجھوں کیا
دل دیوانہ تیرا بھی ہے میرا بھی
شہروں شہروں گلیوں جس کا...