میرے خیال میں تو احباب کے پیشِ نظر "مرحوم حسرت موہانی کی رائے ہے کہ ۔ شعردراصل ہیں وہی حسرت۔سنتے ہی دل میں جو اتر جایئں۔۔۔۔
اگراس مجرد الہام کو کسی منتج تخیل کے اسلوب میں ڈھال کر قاری تک پہنچائیں تو مثل المعنی فی البطن الشاعر کا سہارا نہ لینا پڑے۔۔۔
ویسے قوافی اور تکنیکی پہلؤوں سے قطع...