تم آرزو کے دئیے جلا کر خدا سے اچھی امید رکھنا
خزاں کے موسم کی رخصتی پر بہارِ گُل کی نوید رکھنا
وہ تیرا رب ہے وہ تیرا مولا اسی سے اچھی امید رکھنا
اسی سے کرنا تم دل کی باتیں اسی سے راز و نیاز کرنا
سردار اپنے بیٹے سے۔۔۔ تمہارے رزلٹ کا کیا بنا؟
بیٹا جو کہ فیل ہو چکا تھا، کہنے لگا کہ مس کہتی ہیں کہ تمہیں اس کلاس میں ایک سال اور لگانا پڑے گا۔
باپ کہنے لگا۔۔۔ سال چاہے دو تین لگا لو مگر فیل نہ ہونا۔
ریس دیکھتے ہوئے پٹھان نے اپنے ساتھ بیٹھے آدمی سے پوچھا کہ انعام کس کو ملے گا۔ اس نے کہا کہ سب سے آگے والے کو۔
بولا ۔۔ تو یہ پیچھے والے کیوں دوڑ رہے ہیں۔
بیٹا۔۔۔ ابو آپ کے تمام بال سفید ہو رہے ہیں۔
باپ کہتا ہے کہ جب تم ایک شرارت کرتے ہو تو میرا ایک بال سفید ہو جاتا ہے۔
بیٹا کہنے لگا اچھا اب میں سمجھا کہ دادا ابو کے تمام بال کیوں سفید تھے۔
یہ بھی تو کہا تھا نا کہ سارے امکانات پر نظر رکھنی چاہئیے۔
بیویوں کو لڑانے کی بات تو نہ کی ہم نے۔ ہمارا سوال تو یہ ہے کہ
کیا ایک بندے کی دو یا تین بیویوں کا اپنے شوہر کے خلاف متحد ہونے کا امکان ہے یا نہیں؟
ایک سیدھے سادے بندے کو کسی نے دعوت پر بلایا۔ جب وہ اس کے گھر گیا تو وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔ اسے غصہ آیا تو اس نے دروازے پر لکھ کر لٹکا دیا۔
میں آیا ہی نہیں تھا ۔