ایک وڈیو قطعے کےملاحظے کے دوران پتہ چلا کہ فارسی میں بے روزگار اور بےروزگاری کے لیے بے کار اور بےکاری استعمال ہوتا ہے ۔
جب کہ ہم اردو میں بے کار کو غیر مفید کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بیٹھے ہیں آدمی ہی، دکانیں لگا لگا
کہتا ہے کوئی لو، کوئی کہتا ہے، لا رے لا
اور آدمی ہی پھرتے ہیں، سر رکھ کے خوانچہ
کس کس طرح سے بیچیں ہیں، چیزیں بنا بنا
اور مول لے رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
آدمی نامہ ۔ نظیر اکبر آبادی
بازآ کہ در فراق تو چشم امیدوار
چون گوش ِروزه دار، بر الله اکبر است
سعدی
اب لوٹ آئو کہ یہ امید وار آنکھیں تمھاری راہ میں
ایسے منتظر ہیں کہ جیسے روزےدار کے کان اذان کے لیے
گر کلیم اللہ جیسا "رب ارنی" ہم کہیں
دیکھنا پھر قلب مضطر طور سارا ہو گیا
۔
یہاں "رب ارنی" کا صحیح قرائت کے تلفظ کے مطابق وزن فاعلاتن ہو نا چاہیئے۔
غالبا یہی وضاحت مطلوب تھی۔
۔حسن محمود جماعتی۔ صاحب ؟