وہی تو۔ عاطف بھائی کیا ہی خوبصورت امتزاج ہے نا
مگر یہ مکھیاں ہٹوانا بہت مہنگا پڑ گیا۔ اس سے تو اچھاتھا کہ ایک بار اور ڈنک مار دیتیں۔ پہلے بھی سب کی دعائیں قبول ہوئیں۔ دوبارہ بھی قبول ہو جاتیں۔
اگر چراغ سے باہر آ ہی گئے ہیں اور کھانے اور اٹھانے کی بات ہو رہی ہے تو از راہ کرم ہمیں ڈسنے والی شہد کی مکھیوں کو نظر میں رکھیں۔ مگر ذرا بچ کے، بیت سخت تکلیف دیتے ہیں ان کے ڈنک۔ اور شہد بھی حاصل نہیں ہوتا۔ :cry:
یعنی کہ ہم بھی چل کر جائیں اور جلیبیاں کھائیں اس سے بہتر نہیں کہ ایک بار پھر سے شہد کی مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالیں ۔ اور کسی عیادت کو آنے والے سے جلیبیوں کی فرمائش کر دیں۔
حلوائی کی دکان 35 کلو میٹر دور ہے۔ اور یہماری سبز بھوتنی بھی آج کل بے مروتی دکھا رہی ہے :cry:
اسی لیے تو کہانی ہی چار لفظوں میں ختم کر دی تھی کہ
ساری خواہشیں مر گئیں
بس آپ کے پوچھنے پر چار جملے مزید بڑھا کر غم غلط کر لیا۔
ہائے جلیبیاں۔۔
:rollingonthefloor: :rollingonthefloor: :rollingonthefloor:
صرف آپ جانتے ہیں افغانی جلیبی کو بھائی۔
اب کیا ہمیں آدمخور بنانا چاہتے ہیں۔ بھائ اپنے ہاتھوں ہمارا گلا گھونٹ ڈالیں گے اس صورت میں۔
سیدھے سے کہئیے نا کہ
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
مگر
دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں
وہ آنسو کیا پئے گا جسے غم کھانا نہیں آتا
اب بندہ پوچھے کہ غم کھانے کی چیز ہے یا پینے کی۔ ہمیں تو لگتا کہ سہہ سہہ کے مر جانے کی چیز ہے غم۔