السلام علیکم
ایک حالیہ غزل ۔ محفلین کی خدمت میں
عزیز م فاتح بھائی کی نذ رخصوصاََ ۔ آپ نے نشاندہی کی کہ محفل میں کلام پیش کرنے میں سستی کرتا ہوں۔ سو پیش ہے۔
غزل
---------------------------
جس جا کروں نظر ترےجلوے ہی پاؤں میں
پھر کس طرح سے غیب پہ ایمان لاؤں میں
-------------
کچھ اس اداسےراز سے...
مکالمہ ۔
رأی رجل امرأۃ ، فقال لھا۔
"کم أنتِ جمیلۃ"۔
فقالت لہ۔
"لیت کنت جمیلا ، لأبادلک نفس الکلام"
فقال لھا الرجلُ۔
"لا بأس اکذبی کما کذبت"
کسی آدمی نے ایک عورت کو دیکھا اور اس سے کہا ۔
"تو کتنی خوبصورت ہے۔ "۔
عورت نے آدمی کو جواب دیا ۔ "کاش تو بھی خوبصورت ہوتا تو میں تجھے بھی یہی بات...
بہت خوب غزل ہے سرفراز صاحب ۔ خوب طبع رواں ہے۔ لہجہ بھی خوب توانا ۔
یہاں "تھی ڈالی" کے سبب بیانیہ کچھ کمزور لگا ۔ اسے رواں کریں تو بہتر ہو مثلا "رکھی تھی"۔ بنیاد ڈالنا اوربنیاد رکھنا دونوں مقبول محوارے ہیں ۔
اصلاح کی کوئی خاص گنجائش نہیں لگتی۔