۔
یہاں اگر چہ لفظی اعتبار سےتنافر ہے تاہم دونوں میم کے ادغام کی وجہ سے موسیقائی ترتیب متاثر نہیں ہوتی لہذا اس طرح کا تنافر خاص گرفت میں نہیں آتا۔جیسے کہ بعض اوقات لفظی طو ر پر نہ ہوتے ہوئے بھی صوتی ترتیب اور روانی کو متاثر کرتا نظر آتا ہے وہ زیادہ گراں ہوتا ہے ۔( مثلا۔کیا قسم ہے ترے ملنے...
ایک بات یہ ہے کہ سائنس جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے (بلکہ بہتر ہے کہ کہا جائے کہ انسان سائنسی میدان میں ترقی کر رہا ہے) ویسے ویسے موجودات کی تخلیقی نوعیت سے پردے اٹھ رہے ہیں (ارتقاءکا نطریہ بھی اس کا محض ایک حصہ ہے)۔ان اٹھنے والے پردوں اور ظہور پذیر ہونے والے حیران کن انکشافات سے اکثرسائنسدان "قدرت"...
آورد کا ایسا استعمال آپ کی اپنی صوابدید پر موقوف ہے ۔ مجھے تو یہ بہت تکلف معلوم ہوتا ہے کیوں کہ آورد کی کیفیت متعدی نوعیت کی ہے اور اس کو ہونا سے جوڑنا ذرا عجیب ہے۔شعر میں اور قافیوں کی گنجائش بھی ہے۔
ایک خاص اصلاح میں بھی کیے دیتا ہوں عاطف ملک برادر ۔ یہاں رانا صاحب اور راؤ صاحبان وغیرہ کی موجودگی میں " کوئی " کے بجائے بٹ صاحب کا محلِ خاص ہے۔ ( ڈیو اپولوجیز :) )
لڑ پڑے "کھیر" پہ جب رانا و راؤ، تو یہ بٹ
بھئی بہت سی گردنیں بھی اسی لائق ہوتی ہیں جن پر چاقو چلنا خربوزے پر چلنے کی طرح ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نفع آور۔مثلاََ دہشت گردوں کی گردن فسادیوں کی گردنیں اور حلال مویشیوں کی گردنیں وغیرہ۔
اس سے برادر لئیق کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ اور آپ کی رائے بھی اس ضمن میں یقینا صائب ہے کہ اس کو ایک ہی معیار سے ناپنے کے نظام کو لاگو کرنا چاہیئے۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
لیکن وارث بھائی ! اگر بیس مرلے کا کنال اور آٹھ کنال کا ایکڑ ہوا تو ایک مرلے میں مربع فٹ یا مربع میٹر ہر جگہ کیسے مختلف ہو سکتے ہیں ؟
اس حساب سے تو ایک مرلہ سواتیس( 30.25 ) مربع گز یعنی دو سو سوا بہتر ( 272.25 ) مربع فٹ کا ہی ہوا۔