کیا کسی بڑی تبدیلی سے پہلے بد عنوانی اور کرپشن کے طوفانی عنصر میں واضح کمی لانی نہیں ہو گی ؟ اور کیا انتظامی تبدیلی کی یہ کوششیں انہی بدعنوانیوں میں بہہ نہ جائیں گی ؟
یہ وزن فعَلہ جمع مکسر کے کئی الفاظ کے لیے اور بھی مستعمل ہے جیسے کافر کے لیے کفرہ ، فاجر کے لیے فجرہ اور بار (بمعنی نیک) کے لیے بررہ،عامل سے عملہ وغیرہ۔
ان سب کی جمع مکسر فُعال پر بھی مستعمل ہے اور جمع سالم بھی ۔
کچھ اشعار میرے والد صاحب کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اللہ بایں اوج مقامِ محمود
یعنی وہ راکبِ براق چلا سوئے ودود
وہ ملائک جو ازل ہی سے رہے وقفِ سجود
پئے تعظیم کھڑے ہو گئے سب پڑھ کے درود
اسکی توصیف و ستائش میں قلم بہنے لگا
خالق کون و مکاں(ج) صلِّ علی کہنے لگا
حکم باری ہوا ہم آج بلاتے ہیں تجھے...
ویسے دھاگے کی مناسبت سے مذاق اڑا نا اور مذاق کرنا دو بہت علیحدہ امور ہیں جن کی حدود بہت غیر واضح اور کسی بھی فرد کی شخصی اور فکری نقطہ ءنظر پر از حد منحصر ہیں ان پر کوئی خط فاصل کھینچنا ممکنات میں سے نہیں ۔
مذاق اڑانا تو یقینا ایک منفی رویہ ہےہر لحاظ سے۔