دستک اس دروازے پر ہوتی ہے جدھر ڈور بیل نہیں لگی ہوتی۔۔۔ پرانے زمانے میں لوگوں نے دستک سے بچنے کے لیے دروازے پر کنڈی لگوائی ہوتی تھی۔۔ ۔جسے لوگ بجا کر اپنی آمد کی اطلاع دیا کرتے تھے۔۔۔ :laughing:
آجائے گا ٹھہراؤ بھی میاں۔۔۔۔۔ کہ آتے آتے آتا ہے۔۔۔ وقت لگتا ہے۔۔۔ ہاتھی مچل جائے یا دل ابل آئے۔۔۔ واپسی کا سفر پل میں طے نہیں ہوتا۔۔۔۔ وہ کیا ہے ناں کہ
اول اول کا عشق بھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
لیکن بعد میں یہ عالم ہوجاتا ہے جس کو جون نے الفاظ سے باندھ دیا کہ
بعد...
اب بات میر کی آگئی ہے تو فراز صاحب تو فرماتے ہیں کہ
ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
میر دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ
اور رہی بات عزت سادات کی جو بوجوہ شاعری جا رہی ہے تو میاں وہ کیا ہے ناں فراز صاحب ہی کی زباں میں
اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزتِ سادات بھی...