واہ ۔۔۔ زبر دست ۔ سدا شاد آباد رہیں ہمارے فرخ بھائی :)
یہ زبان اور لب و لہجہ ہمارے خاندان کے عمر رسیدہ افراد خصوصا خواتین میں ابھی بھی مستعمل ہے۔اگر چہ اب اتنی عام نہیں ۔
بالکل درست ۔۔۔
اور مولانا کے لیے یہ کوئی بڑی بات بھی نہیں، ان میں اس سے کہیں زیادہ حوصلہ بلکہ مشق بھی ہے ۔
ان جیسے صحافی تو مولانا کے لیے چیونٹی اور مکھی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔
سگھڑ یا پھوہڑ کی بات نہیں یہاں ۔
مخصوص مواقع (فیسٹیول ، ایونٹ) وغیرہ پر پہننے کے لیے بناے گئے ہیں یہ سب نرالے بُندے ۔
ویسے عام حالات میں کوئی استعمال نہیں کرے گا ۔ جیسے ہم لوگ 14 اگست کو سبز اور سفید کپڑے وغیرہ پہن لیتے ہیں اسی طرح ۔