مصرع یقینا ََ بر محل ہے (بلکہ تیر بہدف ہے :) ) ۔
اور ہاں یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ ایک مومن کا دامن اتنا دراز ہے کہ دوسرے مومن کا دستِ رسا دھاگے میں ہدیہءتبریک پیش کرنے کشاں کشاں حاضر ہوا ۔
چند مثالیں ۔
نیچر کیا ھے ؟
پرمٹو مادہ امائنو ایسڈز اور خلیات پیچیدگی کی منازل کی طرف کیوں گامزن ہوئے۔؟ جب کہ قدرتی طور پر ہر چیز سادہ سے سادہ راستہ اختیار کرتی ہے۔
صرف ایک مخلوق کو علم کی لگن کیوں ھے ۔ جبکہ اس سے بڑے دماغ والی مخلوق بھی موجود ہیں ۔
ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ارتقاء کا نظریئے کائناتی زندگی کے بارے میں تمام (نوعیت کے) سوالات کا جواب دیتا ہے ؟
زیادہ عمومی انداز میں یہ کہ ارتقاء کے نظریئے کی حدود کیا ہیں ؟
کیا یہ بلا حدود و ثغور ایک "مکمل" مسلمہ حقیقت ہے ؟
پہلے تو اس کو ترنم خوب سننا چاہیئے ۔ پھر خود ہی اگر شاعر (واقعی) ہے تو بحر اور ترنم کا باہمی رشتہ سمجھ آجائے گا ۔
اور جب یہ سمجھ میں آجائے گا تو ترنم سے کہہ بھی سکے گا۔
لیکن بھائی سچ پوچھو تو ہم تو اپنے ملک کا درد محسوس کرتے ہیں ۔اسے کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں ۔
غنی روز سیاہ پیر کنعاں را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را
نور یعقوب کی آنکھوں کا اور روشنی ٹھنڈک بخشے زلیخا کی آنکھوں کو ۔ افسوس ۔