یہ تو اقبال کی بہت معروف غزل ہے ۔غالبا بال جبریل میں ہے ۔
اصلاح سخن اس سوال کے لیے مناسب سیکشن نہیں ۔
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداءکیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے