سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمھارا یاد رہتا ہے
تمھارا ظرف ہے تمکو محبت بھول جاتی ہے
ہمیں تو جس نے بھی ہنس کے پکارا یاد رہتا ہے
محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی
کسی نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے
محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لینا
کسےَ...