ایسی نظم پر واہ کس طرح لکھا جائے؟ کتنا درد پرو دیا ہے الفاظ میں محسن نقوی نے۔۔۔ ہائے ہائے ہائے
خصوصاً یہ دو سطریں تو گویا کائنات کا سارا دکھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔۔۔
کانپتے ہاتھ جن کے سائے سے
آخرِ شب دعا لرزتی ہے
اس نظم کا عنوان محسن نقوی نے "خزاں" رکھا تھا۔