غزل
دیکھ تُو گھر سے نکل کر گلی میں کیا ہے
تجھ میں کچھ نہ سہی اور کسی میں کیا ہے
کون ہے جو تکتا نہیں ترے چہرے کی جانب
سب میں ہوتی ہے ہوس ، اک مُجھی میں کیا ہے
جو اُفتاد پڑے ، سر سے گذر جاتی ہے
فائدہ اس کے سوا بادہ کشی میں کیا ہے
میں نے یہ سوچ کر روکا نہیں اسے جانے سے
بعد میں...