اُمیدِ سحر ہے ابھی کوئی
تیرا منتظر ہے ابھی کوئی
تجھے لوٹ کے جانا ہے
تیرا گھر ہے ابھی کوئی
راحت منز ل پہ ملے گی
مشکل ڈگر ہے ابھی کوئی
کہانی بھی طول کھینچے گی
قصہ مختصر ہے ابھی کوئی
اس کا ہاتھ ترے ہاتھ میں
کیسا ڈر ہے ابھی کوئی
گُلوں کو کھلنا ہے ظفر
ہرا شجر ہے ابھی کوئی