مطلع سے ہی اپنی گرفت میں لے لینے والی ایک خوبصورت غزل جو بیک وقت تصوف کے در بھی باز کرتی ہے اور اس کے دریچوں سے ہجرت کا درد بھی باہر نکلتا نظر آتا ہے۔ چہ خوب
نہیں نہیں میں کسی کو نہیں بتاتا کہ میں نے کل اس غزل کے ایک ایک شعر کی تشریح کر کے دی تھی تمہیں۔ میں بھلا کیوں بتانے لگا۔ یہ تو خفیہ راز ہے اور تا قیامت خفیہ راز ہی رہے گا۔:rollingonthefloor:
وہ شعر جو میرے ذہن میں آ رہا تھا، وہ قائم کا نہیں بلکہ نصیر کا تھا۔
یہ دل ہدف ہے، طفلِ فرنگی! لگا تفنگ
چپکاتا کیوں یہ کاغذِ پرمٹ ہے بانس پر
شاہ نصیر
permit
ہاہاہاہا ابلے اور فرائی انڈے تو کھانے کی ان معدودے چند اشیا میں آتے ہیں جو میں خود بنا سکتا ہوں۔ شاعری چیزے دیگر است :laughing:
پذیرائی پر ممنون ہوں۔ :)
ابھی تو آپ کہہ رہی تھیں کہ آپ کی سمجھ میں ہی نہیں آ سکا اردو والا فنی اور جب میں نے سمجھایا تو آپ نے متفق دبا دیا گویا آپ جانتی تھیں اور میری بات سے اتفاق کر رہی ہیں۔ اس متفق کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا۔