یہ تہیہ تو ہم نے بھی کر رکھا ہے لیکن صرف ریٹنگ سے نہیں بلکہ کھلے بندوں وا شگاف الفاظ میں اظہار کر کے۔ اب آپ کے لکھے ہوئے میں موجود اغلاط کی ترتیب وار اصلاح کی جانب آتے ہیں:
اول۔ شعر نہ صرف تحریف کا شکار ہے بلکہ وزن سے اتنی بری طرح خارج کیا گیا ہے کہ اسے اب شعر کہا ہی نہیں جا سکتا لہٰذا اسے...