ظاہر ہے کہ عام آدمی کے بس میں صرف وہی تارے ہوتے ہیں جو ا اسے دن میں دکھائے جاتے ہیں ۔
عاشق بھی کہاں اب تارے گن سکتے ہوں گے کہ
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
اور روزگار کےچکر میں پڑنے کے بعدرات تو پھر ہوتی ہی سونے کے لیے ہے۔
فٹا فٹ بتا دیتے ہیں کہ یہ سب چائے کے تین مگوں کا کمال ہے۔
کیونکہ نہ چاہے ہوتی ہے اور نہ سارا وقت اسے پینے پہ صرف ہوتا ہے اس لیے محفل کو وقت دے دیتے ہیں۔