بڑی سفاکی سے ٹوٹتے ہیں صدمے۔ لیکن اتنے سفاک بھی نہیں ہوتے کہ ایک ہی جگہ جم کر رک جائیں۔ یہ عمل اچانک تو ہوتا ہے لیکن اس میں ٹھہراؤ عام طور پر نہیں ہوتا۔ بڑی دھیمی اور مدہم رفتار سے چلتا جاتا ہے اور اس دھیمے پن میں اس کی شدت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ عمل اگر اس طرح سے نہ ہوتا تو زندگی رک جاتی ۔...