You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
-
بہکی ہوئی دانش سے حماقت بہتر
ناپختہ ذہانت سے عبادت بہتر
جو راہِ طلب میں بیٹھ جائے تھک کر
اس 'علمِ قلیل' سے جہالت بہتر
-
جودت کا گہر مہرِ مبیں سے بہتر
حکمت کی حلاوت انگبیں سے بہتر
عالم کا دیا ہوا گمانِ بد بھی
جاہل کے عطا کردہ یقیں سے بہتر
-
تو پیکرِ عصمت ہے پشیماں کیوں ہے؟
وابستۂ اصطلاحِ عصیاں کیوں ہے؟
ممکن نہیں اک سانس مشیت کے خلاف
ہر فعل، عبادت ہے، پریشاں کیوں ہے؟
-
دل کا ایمان کے خورشید سے مشرق ہونا
قوتِ عقل کا فطرت کے موافق ہونا
'راستگوئی' کی ہے دراصل یہ جامع تعریف
نطق کا وضعِ الٰہی کے مطابق ہونا
-
ہاں عشق کی انسان کو تلقین نہ کر
اے مردِ جنوں! عقل کی تدفین نہ کر
افکار کو کہہ رہا ہے کارِ ابلیس
ممکن ہو تو قرآن کی توہین نہ کر
-
مجرم ہیں ہمیں سزائیں دینے والے
طوفان ہیں خود، سفینہ کھینے والے
واللہ کہ اک وبا ہیں بندوں کے لیے
ظاہر میں خدا کا نام لینے والے
-
اے بارِ خدا مان چکا ہوں تجھ کو
مانا ہی نہیں، جان چکا ہوں تجھ کو
پھر کیوں ہے مرے فسقِ عزائم پہ مصر
کہتا تو ہوں پہچان چکا ہوں تجھ کو
-
علّت کا، نہ معلول و قضا کا منکر
حاشا، نہ خبر، نہ مبتدا کا منکر
اوہام نے جس بت کو بنایا ہے خدا
الحاد ہے صرف اس خدا کا منکر
-
کس نقش میں رنگِ حی و قیوم نہیں
موہوم ہے اس طرح کہ موہوم نہیں
پردے میں ہے اک قوتِ اعلیٰ تو ضرور
اس کے اوصاف کیا ہیں معلوم نہیں
-
کب سر پہ کسی نبی کا احسان لیا
رازِ کونین، خود بخود، جان لیا
انسان کا عرفان ہوا جب حاصل
اللہ کو، ایک آن میں، پہچان لیا
-
ناداں ہے محوِ خواب، دانا بیدار
وہ کیفِ روایات، یہ کربِ افکار
راتوں کے سکوت میں ہے غلطاں یہ صدا
جاگے پروردگار، سوئے سنسار
-
یہ نارِ جہنم، یہ سزا، کچھ بھی نہیں
یہ دغدغۂ روزِ جزا، کچھ بھی نہیں
اللہ کو قہار بتانے والو!
اللہ تو رحمت کے سوا کچھ بھی نہیں
-
آلام کو بستگانِ غم سے پوچھو
سوز لبِ خشک و چشمِ نم سے پوچھو
کیا پوچھ رہے ہو فقہا سے، یارو
اللہ کی رحمتوں کو ہم سے پوچھو
-
مبنی تیرا حدیث و آیات پہ دین
میں، شہرِ تامل و تفکر کا مکین
تو، شیفتۂ نطقِ رسالت۔۔۔ اور میں
حرف ناگفتۂ نبوت کا امیں
-
پہلو میں مرے دیدۂ پرنم ہے کہ دل
معبود! یہ مقیاسِ تپِ غم ہے کہ دل
ہو ذرہ بھی کج تو بال پڑ جاتا ہے
یہ شیشۂ ناموسِ دو عالم ہے کہ دل
-
ہر آن کی یہ سینہ زنی کیسی ہے
ہر سانس میں غلطاں یہ انی کیسی ہے
اپنے گھر میں ہوں، اجنبی کے مانند
مولیٰ، یہ غریب الوطنی کیسی ہے
-
مجھ کو انعامِ حق پناہی دے گا
میری نیت کو تاجِ شاہی دے گا
مومن کا نہیں، نبی کا دل رکھتا ہوں
اللہ سے پوچھو، وہ گواہی دے گا
-
اے شیخ! نہ مجھ سے پوچھ حالت میری
دنیا سے نرالی ہے طبیعت میری
تشویشِ ممات ہے تری صوم و صلوۃ
تعمیرِ حیات ہے عبادت میری
-
عقلوں سے جدا، غلاف کرتا ہوں میں
ذہنِ انساں کو صاف کرتا ہوں میں
کیا مجھ کو پکارتا ہے کعبے کی طرف
ہر سانس میں سو طواف کرتا ہوں میں
-
کیا مجھ کو خبر نزاعِ مشرب کیا ہے
مردود ہے کیا بلا، مقرّب کیا ہے
شاعر تو ہے خالقِ مذاہب اے دوست
شاعر سے نہ پوچھ تیرا مذہب کیا ہے