You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
-
انصاف! بتوں کی چاہ دینے والے
حُسن اُن کو، مجھے نگاہ دینے والے
کس منہ سے مجھے حشر میں دے گا تعزیر
دل کو ہوسِ گناہ دینے والے
-
مے علم کی پینا ہی نہ آیا اب تک
ساحل پہ سفینہ ہی نہ آیا اب تک
اک نوچ کھسوٹ ہے خوشی کی باہم
انسان کو جینا ہی نہ آیا اب تک
-
اک فتنہ ہے ناقصوں میں کامل ہونا
اک قہر ہے وابستۂ منزل ہونا
تاریخ کے اوراق جو الٹے تو کھلا
اک جرم ہے احمقوں میں عاقل ہونا
-
اک عمر تصوف نے مجھے چکرایا
اس بحر میں ایک بھی نہ موتی پایا
ہر مرتبہ جبکہ جال کھینچا میں نے
تو اک نہ اک وہم اٹک کر آیا
-
قانون نہیں ہے کوئی فطرت کے سوا
دنیا نہیں کچھ نمودِ طاقت کے سوا
قوت حاصل کر اور مولا بن جا
معبود نہیں ہے کوئی قوت کے سوا
-
گلشن کی روش پہ مسکراتا ہوا چل
بدمست گھٹا ہے، لڑکھڑاتا ہوا چل
کل خاک میں مل جائے گا یہ زورِ شباب
جوش آج تو بانکپن دکھاتا ہوا چل
-
تجھ سے جو پھرے گی تو کدھر جائے گی
لے جائے گا جس سمت اُدھر جائے گی
دنیا کے حوادث سے نہ گھبرا کہ یہ عمر
جس طرح گزارے گا، گزر جائے گی
-
جنت کے مزوں پہ جان دینے والو
گندے پانی میں ناؤ کھینے والو
ہر خیر پہ چاہتے ہو ستر حوریں
اے اپنے خدا سے سود لینے والو!
-
ہر رنگ میں ابلیس سزا دیتا ہے
انسان کو بہر طور دغا دیتا ہے
کر سکتے نہیں گناہ جو احمق اُن کو
بے روح نمازوں میں لگا دیتا ہے
-
دیتا نہیں بوستاں بھی سہارا مجھ کو
کرتی نہیں بلبل بھی اشارا مجھ کو
مرجھائے ہوئے پھول نے حسرت سے کہا
اب توڑ کے پھینک دو خدارا مجھ کو
-
اے خواب بتا، یہی ہے باغِ رضواں؟
حوروں کا کہیں پتا، نہ غلماں کا نشاں
اک کنج میں خاموش و ملول و تنہا
بے چارے ٹہل رہے ہیں اللہ میاں
-
ہر یارِ جفا جو کو نباہا میں نے
سمجھا ہر زخمِ دل کو پھاہا میں نے
لیکن اپنے سے بڑھ کے اب تک واللہ
دنیا میں کسی کو نہیں چاہا میں نے
-
زلفیں ہے کہ ژولیدہ خیالات کی رات
اے جانِ حیا! ٹھہر بھی جا رات کی رات
ان تیرہ گھٹاؤں میں کدھر جائے گی
شانوں پہ لیے ہوئے یہ برسات کی رات
-
یہ رات گئے عینِ طرب کے ہنگام
پرتو یہ پڑا پشت سے کس کا سرِ جام
'یہ کون ہے؟' 'جبریل ہوں' 'کیوں آئے ہو؟"
'سرکار! فلک کے نام کوئی پیغام؟'
-
سر گھوم رہا ہے ناؤ کھیتے کھیتے
اپنے کو فریبِ عیش دیتے دیتے
اف جہدِ حیات! تھک گیا ہوں معبود
دم ٹوٹ چکا ہے سانس لیتے لیتے
-
یہ حکم ہے، چپ سادھ لو، آنکھیں نہ اٹھاؤ
دو خوب اذاں، دھوم سے ناقوس بجاؤ
گوبر پہ چنے چاب کے پانی پی لو
بستر پہ گرو، ڈکار لو اور مر جاؤ
-
کیوں مجھ سے تقاضا ہے کہ 'پھندے کھولو'
کس طرح کٹے یہ پاپ، بولو، بولو
بندے کی طرف شوق سے آنا یارو
مایوس اللہ سے تو پہلے ہو لو
-
جھجکو، ٹھٹکو نہ ایک پل بھی شرماؤ
یہ دل تو ازل ہی سے تمہارا ہے پڑاؤ
اے جملہ حوادث و غموم و آفات
بندے ہی کا یہ غریب خانہ ہے در آؤ
-
مر مر کے جب اک بلا سے پیچھا چھوٹا
اک آفتِ تازہ دم نے آ کر لوٹا
اک آبلۂ نو سے ہوا سینہ دوچار
جیسے ہی پرانا کوئی چھالا ٹوٹا
-
ابنِ آدم کو صاحبِ جاہ کرو
کمبخت کو اب اور نہ گمراہ کرو
'اللہ' سے انسان ہے کب کا واقف
انسان سے انسان کو آگاہ کرو