نتائج تلاش

  1. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    انصاف! بتوں کی چاہ دینے والے حُسن اُن کو، مجھے نگاہ دینے والے کس منہ سے مجھے حشر میں دے گا تعزیر دل کو ہوسِ گناہ دینے والے
  2. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    مے علم کی پینا ہی نہ آیا اب تک ساحل پہ سفینہ ہی نہ آیا اب تک اک نوچ کھسوٹ ہے خوشی کی باہم انسان کو جینا ہی نہ آیا اب تک
  3. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اک فتنہ ہے ناقصوں میں کامل ہونا اک قہر ہے وابستۂ منزل ہونا تاریخ کے اوراق جو الٹے تو کھلا اک جرم ہے احمقوں میں عاقل ہونا
  4. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اک عمر تصوف نے مجھے چکرایا اس بحر میں ایک بھی نہ موتی پایا ہر مرتبہ جبکہ جال کھینچا میں نے تو اک نہ اک وہم اٹک کر آیا
  5. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    قانون نہیں ہے کوئی فطرت کے سوا دنیا نہیں کچھ نمودِ طاقت کے سوا قوت حاصل کر اور مولا بن جا معبود نہیں ہے کوئی قوت کے سوا
  6. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    گلشن کی روش پہ مسکراتا ہوا چل بدمست گھٹا ہے، لڑکھڑاتا ہوا چل کل خاک میں مل جائے گا یہ زورِ شباب جوش آج تو بانکپن دکھاتا ہوا چل
  7. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    تجھ سے جو پھرے گی تو کدھر جائے گی لے جائے گا جس سمت اُدھر جائے گی دنیا کے حوادث سے نہ گھبرا کہ یہ عمر جس طرح گزارے گا، گزر جائے گی
  8. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جنت کے مزوں پہ جان دینے والو گندے پانی میں ناؤ کھینے والو ہر خیر پہ چاہتے ہو ستر حوریں اے اپنے خدا سے سود لینے والو!
  9. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر رنگ میں ابلیس سزا دیتا ہے انسان کو بہر طور دغا دیتا ہے کر سکتے نہیں گناہ جو احمق اُن کو بے روح نمازوں میں لگا دیتا ہے
  10. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    دیتا نہیں بوستاں بھی سہارا مجھ کو کرتی نہیں بلبل بھی اشارا مجھ کو مرجھائے ہوئے پھول نے حسرت سے کہا اب توڑ کے پھینک دو خدارا مجھ کو
  11. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اے خواب بتا، یہی ہے باغِ رضواں؟ حوروں کا کہیں پتا، نہ غلماں کا نشاں اک کنج میں خاموش و ملول و تنہا بے چارے ٹہل رہے ہیں اللہ میاں
  12. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر یارِ جفا جو کو نباہا میں نے سمجھا ہر زخمِ دل کو پھاہا میں نے لیکن اپنے سے بڑھ کے اب تک واللہ دنیا میں کسی کو نہیں چاہا میں نے
  13. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    زلفیں ہے کہ ژولیدہ خیالات کی رات اے جانِ حیا! ٹھہر بھی جا رات کی رات ان تیرہ گھٹاؤں میں کدھر جائے گی شانوں پہ لیے ہوئے یہ برسات کی رات
  14. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    یہ رات گئے عینِ طرب کے ہنگام پرتو یہ پڑا پشت سے کس کا سرِ جام 'یہ کون ہے؟' 'جبریل ہوں' 'کیوں آئے ہو؟" 'سرکار! فلک کے نام کوئی پیغام؟'
  15. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    سر گھوم رہا ہے ناؤ کھیتے کھیتے اپنے کو فریبِ عیش دیتے دیتے اف جہدِ حیات! تھک گیا ہوں معبود دم ٹوٹ چکا ہے سانس لیتے لیتے
  16. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    یہ حکم ہے، چپ سادھ لو، آنکھیں نہ اٹھاؤ دو خوب اذاں، دھوم سے ناقوس بجاؤ گوبر پہ چنے چاب کے پانی پی لو بستر پہ گرو، ڈکار لو اور مر جاؤ
  17. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    کیوں مجھ سے تقاضا ہے کہ 'پھندے کھولو' کس طرح کٹے یہ پاپ، بولو، بولو بندے کی طرف شوق سے آنا یارو مایوس اللہ سے تو پہلے ہو لو
  18. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جھجکو، ٹھٹکو نہ ایک پل بھی شرماؤ یہ دل تو ازل ہی سے تمہارا ہے پڑاؤ اے جملہ حوادث و غموم و آفات بندے ہی کا یہ غریب خانہ ہے در آؤ
  19. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    مر مر کے جب اک بلا سے پیچھا چھوٹا اک آفتِ تازہ دم نے آ کر لوٹا اک آبلۂ نو سے ہوا سینہ دوچار جیسے ہی پرانا کوئی چھالا ٹوٹا
  20. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ابنِ آدم کو صاحبِ جاہ کرو کمبخت کو اب اور نہ گمراہ کرو 'اللہ' سے انسان ہے کب کا واقف انسان سے انسان کو آگاہ کرو
Top