You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser.
-
چھائی نہ کسی دھوپ میں رخ پر زردی
دوڑائی شعاؤں کے جگر میں سردی
حیران ہے جرأتِ مسیح و سقراط
واللہ کہ اے حُسین کارے کردی
-
افکار کے رخسار پہ عالی نسبی
کردار کے آئینے میں یہ تابِ جلی
لہجے پہ ہے بنیادِ نظامِ آفاق
اللہ رے آوازِ رسولِ عربی
-
تقدیر کی یہ دروغ بافی، افسوس!
برتاؤ یہ رحمت کے منافی، افسوس!
فاقے کا شکار ہیں کروڑوں بندے
اللہ کی یہ وعدہ خلافی، افسوس!
-
دن ہوتے نہ زر رو، نہ راتیں ہی سیاہ
بھولے سے بھی اک لب پہ نہ آتی کبھی آہ
انسان کے دل کو نہ چھو سکتے آلام
میرا سا اگر شفیق ہوتا اللہ
-
مرضی ہو تو سولی پہ چڑھانا یا رب
سو بار جہنم میں جلانا یا رب
معشوق کہے 'آپ ہمارے ہیں بزرگ'
ناچیز کو یہ دن نہ دکھانا یا رب
-
ہم دونوں ہیں اے فقیہ! دیوانے سے
مطلب ہے فقط دل کے بہل جانے سے
ہر شام و سحر کرتے ہیں عیاشی ہم
تو ظرفِ وضو سے اور میں پیمانے سے
-
مرنے پہ نویدِ جاں ملے نہ ملے
یہ کنج، یہ بوستاں، ملے نہ ملے
پینے میں کسر نہ چھوڑ اے خانہ خراب
معلوم نہیں وہاں ملے نہ ملے
-
کیا شیخ ملے گا گلفشانی کر کے
کیا پائے گا توہینِ جوانی کر کے
تو آتشِ دوزخ سے ڈراتا ہے انہیں
جو آگ کو پی جاتے ہیں پانی کر کے
-
کل موتیوں کو رول دیا ساقی نے
سونے میں مجھے تول دیا ساقی نے
یہ سن کے کہ کھلتا نہیں مقصودِ حیات
میخانے کا در کھول دیا ساقی نے
-
بگڑی ہوئی عقل سے حماقت بہتر
دھوکے کی محبت سے عداوت بہتر
شیطان و ابو جہل کی عظمت کی قسم
سو بار غلامی سے بغاوت بہتر
-
غالب ہے مرا جذبۂ غیرت مجھ پر
اک قہر ہے ناقصوں کی صولت مجھ پر
زاہد اگر آج مے کو جائز کر دے
اک قطرہ بھی پھر پی جاؤں تو لعنت مجھ پر
-
کیا شیخ کی خشک زندگانی گزری
بے چارے کی اک شب نہ سہانی گزری
دوزخ کے تخیل میں بڑھاپا بیتا
جنت کی دعاؤں میں جوانی گزری
-
یہ سلسلۂ لامتناہی ہے کہ زلف؟
گہوارۂ بادِ صبحگاہی ہے کہ زلف؟
اے جانِ شباب دوشِ سیمیں پہ تری
دھنکی ہوئی رات کی سیاہی ہے کہ زلف؟
-
ہر غم مئے گلرنگ سے تھراتا ہے
آلامِ جہاں کا منہ اتر جاتا ہے
لیکن جسے کہتے ہیں غمِ عشق اے جوش
وہ نشے میں کچھ اور بھی بڑھ جاتا ہے
-
اے عمرِ رواں کی رات، آہستہ گزر
اے منظرِ کائنات، آہستہ گزر
اک شے پہ بھی جمنے نہیں پاتی ہے نگاہ
اے قافلۂ حیات، آہستہ گزر
-
جانے والے قمر کو روکے کوئی
شب کے پیکِ سفر کو روکے کوئی
تھک کے مرے زانو پہ وہ سویا ہے ابھی
روکے روکے سحر کو روکے کوئی
-
الفاظ ہیں ناگن سی جوانی کے ڈسے
انفاس مہکتے ہوئے ہونٹوں میں بسے
یوں دل کو جگا رہا ہے تیرا لہجہ
جس طرح ستار کے کوئی تار کسے
-
جس چال سے بڑھ رہی ہے فوجِ برہان
اوہام کا قطعہ ہو رہا ہے ویران
جتنا انسان بن رہا ہے اللہ
اللہ اتنا ہی بن رہا ہے انسان
-
جس وقت جھلکتی ہے مناظر کی جبیں
راسخ ہوتا ہے ذاتِ باری کا یقیں
کرتا ہوں جب انسان کی تباہی پہ نظر
دل پوچھنے لگتا ہے، 'خدا ہے کہ نہیں؟'
-
ہر دعوائے ارتقا کو مانا میں نے
ہر گوشۂ کائنات چھانا میں نے
سب جان چکا تو اے حریفِ دمساز
میں کچھ نہیں جانتا، یہ جانا میں نے