نتائج تلاش

  1. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اوہام کو ہر اک قَدم پہ ٹھکراتے ہیں اَدیان سے ہر گام پہ ٹکراتے ہیں لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حُسین ہم اہلِ خرابات بھی جھک جاتے ہیں
  2. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اس وقت سبک بات نہیں ہو سکتی توہینِ خرابات نہیں ہو سکتی جبریلِ امیں آئے ہیں مجرے کے لیے کہہ دو کہ ملاقات نہیں ہو سکتی
  3. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    زردار کا خناس نہیں جاتا ہے ہر آن کا وسواس نہیں جاتا ہے ہوتا ہے جو شدت ہوس پر مبنی تا مرگ وہ افلاس نہیں جاتا ہے
  4. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    ہر سانس میں کوثر کے پیام آتے ہیں ہر آن چھلکتے ہوئے جام آتے ہیں بندوں کو جو، اک بار لگاتا ہوں گلے اللہ کے، سو بار سلام آتے ہیں
  5. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اقوال ترے پاک ہیں، اعمال پلید لب، مثلِ حریر، قلب، مانندِ حدید صد حیف کہ اے خطیبِ اعظم، تو ہے منبر پہ حسین، اور مسند پہ یزید
  6. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    حق کو ہو فروغ، ہر ولی چاہتا ہے باطل مٹ جائے، ہر نبی چاہتا ہے لیکن یہ بزرگوار جو چاہتے ہیں کیا قادرِ مطلق بھی وہی چاہتا ہے؟
  7. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    جس راہ پہ تو ہے، اے فقیہِ ذی جاہ کعبے کی طرف کبھی مڑے گی نہ وہ راہ تو رسمِ عبادت سے تو واقف ہے ضرور مقصودِ عبادت سے نہیں ہے آگاہ
  8. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    عالم ہیں ہزار یوں تو گورے، کالے اس پر بھی بہت شاذ ہیں حکمت والے پھرتی ہیں جہالتیں نہ جانے کتنی کاندھوں پہ عبائے علم و دانش ڈالے
  9. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    سینے پہ مرے نقشِ قدم کس کا ہے رندی میں یہ اجلال و حشم کس کا ہے زاہد مرے اس ہات کے ساغر کو نہ دیکھ یہ دیکھ کہ اس سر پہ علم کس کا ہے
  10. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اے بارِ الہ نوحہ سناتا پھرتا تا روزِ جزا اشک بہاتا پھرتا امداد نہ کرتے جو ترس کھا کے حسین اسلام ترا ٹھوکریں کھاتا پھرتا
  11. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    دنیا میں ہے بے شمار آنے والے آتے ہی رہیں گے روز جانے والے عرفانِ حیات ہو مبارک تجھ کو اے شدتِ غم پہ مسکرانے ولے
  12. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    کیا خوب تمنائے شہادت نہ ملے جنسِ علم و متاعِ جرات نہ ملے آنکھوں کو رطوبت تو ملے آنسو کی سینے کو حُسین کی حرارت نہ ملے!
  13. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اسرار کے در کھول رہے ہیں خاموش حکمت کے گہر رول رہے ہیں خاموش اے پیکِ محل شناس جبریلِ امیں اس وقت علی بول رہے ہیں خاموش
  14. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    عباس علم کھول رہے ہیں گویا شمشیرِ دو دم، تول رہے ہیں گویا زینب سرِ دربار ہیں سرگرمِ خطاب میداں میں علی بول رہے ہیں گویا
  15. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    مقتل ہے رواں زینبِ خوددار کے ساتھ شورِ طوفاں ہے چشمِ خونبار کے ساتھ غوغائے قیامت ہے رواں سوئے یزید سجاد کی زنجیر کی جھنکار کے ساتھ
  16. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    کچھ پھول سے تا دور کِھلے جاتے ہیں کچھ سرخ علم سے ہیں کہ لہراتے ہیں فرقِ آدم پہ تاج رکھنے سرِ حشر ہٹ جاؤ فرشتو کہ حُسین آتے ہیں
  17. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اٹھی، سوئے کبریا، محمد کی نگاہ آدم کو ملا اپنی شرافت کا گواہ سجدے میں قلم ہوا جو شبیر کا سر کج ہو گئی فرقِ نوعِ انساں پہ کلاہ
  18. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    یہ رات جو گنگنا رہی ہے ساقی پیغامِ عروج لا رہی ہے ساقی کوثر پہ ہے انتظار شاید میرا آوازِ حُسین آ رہی ہے ساقی
  19. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسین انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
  20. حسان خان

    جوش منتخب رباعیات

    اللہ رہے مورخوں کے الجھے ہوئے خواب ہر موجِ حدیث میں کروڑوں گرداب سچ کی جس پر دمک رہی ہیں مہریں تاریخ ہے جھوٹ کی وہ شائستہ کتاب
Top