کھیل، ہاں اے نوعِ انساں، ان سیہ راتوں سے کھیل
آج اگر تو ظلمتوں میں پا بہ جولاں ہے تو کیا
مسکرانے کے لیے بے چین ہے صبحِ وطن
اور چندے ظلمتِ شامِ غریباں ہے تو کیا
چل چکی ہے پیشوائی کو نسیمِ باغِ مصر
آج یوسف مبتلائے چاہِ کنعاں ہے تو کیا
اب کھلا ہی چاہتا ہے پرچمِ بادِ مراد
آج ہستی کا سفینہ وقفِ...