سرد مینا کا تصور، سرخ پیمانے کی یاد
عود کی خوشبو میں پھر آئی ہے میخانے کی یاد
گوشۂ دل میں پچھاڑیں کھا رہی ہے دیر سے
مست جھونکوں میں جنوں کے رقص فرمانے کی یاد
آئی ہے رہ رہ کے گرتی بجلیوں کے روپ میں
ایک شب پردہ اٹھا کر اُن کے در آنے کی یاد
لے رہا ہے ہچکیاں ایک ایک فرزانے کا نام
بھر رہی ہے...