یوں بھی گزری ہے کہ جب درد میں ڈوبی ہوئی شام
گھول دیتی ہے مری سوچ میں زہرِ ایام
زرد پڑ جاتا ہے جب شہرِ نظر کا مہتاب
خون ہو جاتا ہے ہر ساعتِ بیدار کا خواب
ایسے لمحوں میں عجب لطفِ دل آرام کے ساتھ
مہرباں ہاتھ ترے ریشم و بلّور سے ہاتھ
اپنے شانوں پہ مرے سر کو جھکا دیتے ہیں
جس طرح ساحلِ امید سے بے بس...