نتائج تلاش

  1. حسان خان

    غزل: بے وفا آپ کو کہا صاحب

    یہ شعر اچھا لگا۔ مضمون بھی ہماری اپنی ادبی روایات سے ماخوذ ہے، اور فارسیت کا عنصر بھی موجود ہے۔ شعر کا مضمون اچھا ہے، اور فنی لحاظ سے بھی کوئی نقص نہیں ہے۔ لیکن میں فطرتاً ایسے اشعار سے حظ اٹھانے سے قاصر رہتا ہوں۔
  2. حسان خان

    مرزا غالب کی 144ویں برسی

    میں نے ابھی پسندیدہ کلام میں یہی نظم پوسٹ کی ہے۔ :)
  3. حسان خان

    اقبال مرزا غالب - اقبال

    فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا تھا سراپا روح تو، بزمِ سخن پیکر ترا زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا دید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار جس طرح ندّی کے نغموں سے سکوتِ...
  4. حسان خان

    مرزا غالب کی 144ویں برسی

    میر انیس نے مرزا غالب کے انتقال پر یوں منظوم خراج ادا کیا تھا: گلزارِ جہاں سے باغِ جنت میں گئے مرحوم ہوئے جوارِ رحمت میں گئے مداحِ علی کا مرتبہ اعلی ہے غالب اسد اللہ کی خدمت میں گئے (میر انیس)
  5. حسان خان

    غزل: بے وفا آپ کو کہا صاحب

    یہ تو ذاتی پسند ناپسند کی بات ہے۔ مجھے ایسا اسلوب بہت پھیکا لگتا ہے جس میں فارسیت کا اور اپنی توانا کلاسیکی تہذیب کا رنگ نظر نہ آئے۔ اس لیے میں تو چاہوں گا کہ آپ اپنے نمائندہ اسلوب میں ہی زیادہ سے زیادہ غزلیں کہیں۔ :)
  6. حسان خان

    فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

    اہلِ تقلید ندارند ثباتے در ذات صدقِ ایں واقعہ از سایۂ خود کن تحقیق (فضولی) اہلِ تقلید بالذات ہر قسم کے ثبات و استقامت سے تہی ہوتے ہیں۔ اس بات کی سچائی کا نمونہ اپنے سائے میں دیکھو۔ سینہ ام را سوخت دل وز نالہ ام پیداست ایں بیشتر دارد فغاں ہر گہ کہ آتش دید دف (فضولی) میرے سینے کو دل نے جلا دیا...
  7. حسان خان

    فارسی شاعری طاعتے کآں درحقیقت موجبِ قربِ خداست - محمد فضولی بغدادی (قصیدہ بحضورِ امامِ عالی مقام مع ترجمہ)

    شکریہ وارث بھائی۔ جب آپ کلام پڑھتے ہیں تو میری محنت وصول ہو جاتی ہے۔ :)
  8. حسان خان

    فارسی شاعری خوبصورت فارسی اشعار مع اردو ترجمہ

    فخرِ آذربائجان حضرت فضولی کے ترکی دیوان کا اختتامیہ قطعہ: چون خاکِ کربلاست فضولی مقامِ من نظمم به هر کجا که رسد حرمتش رواست درّ نیست، سیم نیست، گهر نیست، لعل نیست خاک است شعرِ بندہ، ولی خاکِ کربلاست (محمد فضولی بغدادی) اے فضولی! چونکہ خاکِ کربلا میرا مقام ہے (یعنی چونکہ میں کربلا میں مقیم ہوں یا...
  9. حسان خان

    واہ ! چلی اے بس کمال! جیہدا ناں اے میٹرو (عبدالرزاق قادری)

    بہت خوب! اب تو مجھے بھی میٹرو میں سفر کرنے کا اشتیاق ہو رہا ہے۔ :) (اردو وچ گل کرن لئی معذرت۔ مینوں ٹھیک توں پنجابی نئیں آؤندی اے۔)
  10. حسان خان

    بچوں کو اردو سکھانے کے لیے ممی کا لیٹر

    وہ نمونے یقیناً اسلام آباد کو اِزلُو کہنے والے ہوں گے۔ :)
  11. حسان خان

    فارسی شاعری طاعتے کآں درحقیقت موجبِ قربِ خداست - محمد فضولی بغدادی (قصیدہ بحضورِ امامِ عالی مقام مع ترجمہ)

    محمد فضولی کا مجسمہ باکو (آذربائجان) میں: محمد فضولی کا مجسمہ استانبول (ترکی) میں:
  12. حسان خان

    فارسی شاعری طاعتے کآں درحقیقت موجبِ قربِ خداست - محمد فضولی بغدادی (قصیدہ بحضورِ امامِ عالی مقام مع ترجمہ)

    طاعتے کآں درحقیقت موجبِ قربِ خداست طوفِ خاکِ درگۂ مظلومِ دشتِ کربلاست (وہ طاعت جو درحقیقت خدا کے قرب کا موجب ہے، وہ مظلومِ کربلا کی درگاہ کا طواف کرنا ہے۔) اے خوش آں مردم کہ بہرِ قوتِ نورِ نظر در نظر او را مدام آں قبلۂ حاجت رواست (وہ شخص کتنا خوش نصیب ہے کہ جو اپنی آنکھوں کا نور بڑھانے کے لیے...
  13. حسان خان

    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم: چند یادیں

    یہاں کراچی میں ایک علاقہ بھی ہے: تین ہٹی
  14. حسان خان

    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم: چند یادیں

    بہت شکریہ۔ :) اور یہ ترانہ واقعی امر ہے۔
  15. حسان خان

    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم: چند یادیں

    اسی دھاگے کی مناسبت سے ایک بات پوچھتا چلوں: اے پتر ہٹاں دے نئیں وکدے یہاں ہٹاں دے کا کیا مطلب ہے؟
  16. حسان خان

    اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے۔

    اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے۔
  17. حسان خان

    پاکستان تحریک انصاف میں متوقع اضافہ۔۔۔

    عمران خان کو بابر اعوان جیسے مصاحب لے ڈوبیں گے۔
  18. حسان خان

    پاکستان تحریک انصاف میں متوقع اضافہ۔۔۔

    ایک اور لوٹا :)
  19. حسان خان

    اقبال عرفی - علامہ اقبال

    یہ مثنوی کلیاتِ غالب میں موجود ہے۔
  20. حسان خان

    اقبال عرفی - علامہ اقبال

    محل ایسا کیا تعمیر عُرفی کے تخیل نے تصدق جس پہ حیرت خانۂ سینا و فارابی فضائے عشق پر تحریر کی اُس نے نوا ایسی میسر جس سے ہیں آنکھوں کو اب تک اشکِ عنّابی مرے دل نے یہ اک دن اُس کی تربت سے شکایت کی نہیں ہنگامۂ عالم میں اب سامانِ بے تابی مزاجِ اہلِ عالم میں تغیر آ گیا ایسا کہ رخصت ہو گئی دنیا...
Top