وصی اللہ بھائی کی رائے سے متفق ہوں، کہ ہر لفظ کا متضاد ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور صرف اردو ہی نہیں بلکہ کسی بھی زبان میں ضروری نہیں ہے۔
الفاظ زبردستی گھڑے نہیں جاتے، ضرورت کے تحت وجود میں آتے ہیں۔
ان الفاظ کے متضاد کی ضرورت کہاں پیش آئی ہے؟
ایمن بہن سے معذرت کہ لڑی کسی اور سمت چل پڑی۔
موضوع پر واپس آتے ہوئے، موضوع سے متعلق ایک سوال۔
کہ میں ابھی تک اس کنفیوژن کا شکار ہوں کہ جدید شعراء یا جدید شاعری کا اصل مفہوم کیا ہے۔
کس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ فلاں شاعر جدید شعراء میں شامل ہے اور فلاں نہیں؟
اس کا تعلق زمانی اعتبار سے ہے،...
میں بھی سوچنے لگا تھا کہ حضرتِ داغ کی تو پھر خیر تھی، یہ چچا غالب جدید کن معنوں میں ہوئے۔
پتہ چلا کہ ہمارے قدیم جیسے جدید بھائی کے سر اس شعر کی تہمت رکھی گئی تھی۔