غزل
سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں
آہ ! محرومِ دید ہو گئے ہیں
زندگی کے کئی حسیں پہلو
نذرِ ذہنِ جدید ہو گئے ہیں
طعن و تشنیع کب سے ہیں معمول
کچھ رویّے شدید ہو گئے ہیں
مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر
اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں
حُسن آراستہ، نہتّے ہم
ہونا کیا تھا شہید ہوگئے ہیں
ہم نے پڑھ لکھ...