رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیں
میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے
یہ کیسی روشنی تھی میرے اندر
کہ مجھ پر دھوپ کا سایہ پڑا ہے
مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہو
تہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے
بدن شوقین کم پیراہنی کا
در و دیوار پر پردہ پڑا ہے
اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا
گریباں پر خود اپنے جا پڑا ہے
محبت...