مقصدیت پسند شاعر عموماً نئے نظریات پیش نہیں کرتے بلکہ پرانی اقدار کو ہی استعمال کرتے ہوئے عمل کی ترغیب دیا کرتے ہیں۔
غیر شعراء جو پیغام نثر میں دیتے ہیں۔ شاعر اُنہیں منظوم کرکے زیادہ اثر انگیز اور زیادہ قابلِ قبول بنا دیتے ہیں۔ اب اس طرح تو آپ کے حساب سے ہر وہ شخص بُرا ہوا جو اپنے کلام (نثر یا...
قطعہ نظر اس نظم کے موضوع کہ عرض کروں گا کہ شاعری کو صرف افسانہء گل و بلبل تک محدود رکھنا بھی کوئی بڑا احسن فعل نہیں ہے۔ جبکہ شاعری لوگوں کو کسی بھی نظریے (منفی یا مثبت) کے بل پر کچھ کرنے پر تیار کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہے۔
یہ البتہ آپ کی صوابدید ہے کہ اس زبردسٹ "ٹول" کو آپ کس طرح اور کس لئے...
یوں بھی انیس بھائی کو تو ہم نے خود ہی ایگزیمپشن دی ہوئی ہے لیکن آج کل کئی اور "نوواردانِ کرکٹ" بھی گردشِ زمانہ کی چھتری تلے پاکستانی ٹیم کے تمسخر اُڑانے کو ہی عین ثواب گردانتے ہوئے دامے درمے سخنے (زور صرف آخری والے پر ہی ہے) اپنا حصہ ڈالنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ :)
:)
واہ واہ واہ۔۔۔! کیا ہی لطیف تحریر ہے۔
ہم جب جب مزاح سے "دلبرداشتہ" ہونے لگتے ہیں تو راقم صاحب ایک ایسی تحریر مارکیٹ میں پھینک دیتے ہیں۔ چار و نا 4 ۔۔۔۔
بہت خوب لکھا ہے۔ شخصیت تو سمجھ نہیں آ سکی ہمیں۔۔۔! لیکن تحریر کی لطافت بے مثال ہے۔
خوش رہیے۔
رُو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے
ہم نہیں ہوں گے تو دُنیا گردِ پا رہ جائے گی
بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب
دیکھ لینا، یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی
واہ واہ واہ ۔۔۔۔! کیا اچھی غزل ہے۔