جنونِ تعمیرِ آشیاں میں نگاہ ڈالی تھی طائرانہ
جو ہوش آیا تو ہم نے دیکھا، بہ شاخِ نازک ہے آشیانہ
کوئی قرینہ نہیں ہے باقی، بھلا ہو اے گردشِ زمانہ
کہاں وہ رندی، کہاں وہ ساقی، کہاں وہ اب مستیِ شبانہ
بتا دے ان رہرؤوں کو کوئی، قدم اٹھائیں نہ عاجلانہ
سنا ہے صحنِ چمن میں ہر سو قدم قدم پر ہے دام و دانہ...