غمِ دنیا و جورِ آسماں کچھ اور ہوتا ہے
دلِ ناکام پر لیکن گماں کچھ اور ہوتا ہے
سرِ منزل خرامِ کارواں کچھ اور ہوتا ہے
ابھی تاروں کی گردش سے عیاں کچھ اور ہوتا ہے
بہار آتی ہے تو اکثر نشیمن جل ہی جاتے ہیں
مگر گلشن کے جلنے کا سماں کچھ اور ہوتا ہے
بہت ہیں میکدہ میں لڑکھڑانے جھومنے والے
وقارِ لغزشِ...