البدیع ۔ محسناتِ شعری کا انتقادی جائزہ ۔ سید عابد علی عابد۔
کافی پہلے پڑھی تھی۔
بت خانہ شکستم من ۔ مصنف کا نام یاد نہیں آرہا ۔ غالباً رئیس یا جلیسی کے الفاظ تھے اُن کے نام میں۔
یہ تنقید کی کتاب ہے شاعری پر۔
پہلا پتھر ۔ کیپٹن نذیر الدین
یہ کتاب مغلوں کی بے راہ روی اور عوام دشمنی کے حوالے...
جب آپ کی پسندیدگی کا نوٹیفیکیشن ملا تھا۔ تب ہی ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اب کسی بھی لمحے ایک طویل سوال نامہ آیا ہی چاہتا ہے۔ :)
ویسے جنہیں آپ نے ٹیگ کیا ہے اُن سے پہلے ہی این او سی لے لیا ہے ہم نے۔ :D:p
اور یہ 4 نمبر کی بس کہاں جاتی ہے؟ :eek:
جامِ سفال
محمد احمدؔ
شاید کوئی اور دن ہوتا تو حنیف بس میں بیٹھا سو رہا ہوتا۔لیکن قسمت سے دو چھٹیاں ایک ساتھ آ گئیں تھیں ۔ پہلا دن تو کچھ گھومنے پھرنے میں گزر گیا ، دوسرا پورا دن اُس نے تقریباً سوتے جاگتے گزارا ۔ آج بس میں وہ ہشاش بشاش بیٹھا تھا اور بس کی کھڑکی سے لگا باہر کے نظارے...
لیکن یہ تو ہم نے اپنی صفائی پیش کرنے کےلئے لگایا تھا کہ اتنا بڑا آدمی کہہ رہا ہے تو اُس کی بات کو مزید وزن دار بنانے کے لئے ہم نے خود پر تجربہ کرکے دیکھا۔ اور موصوف کو درست پایا۔ :)
غزل
یہ خطّہء آراستہ، یہ شہرِ جہاں تاب
آ جائے گا ایک روز یہ ساحل بھی تہہِ آب
تصویرِ عمل، ذوقِ سفر، شوقِ فنا دیکھ
اک موج کہ ساحل کی طلب میں ہوئی سیماب
شاید یہ کوئی ریز ہ ٴ دل ہے کہ سرِ چشم
مانندِ مہ وہ مہر چمکتا ہے تہہِ آب
اک عمر ہوئی پستیِ ظلمت میں پڑا ہوں
دیکھو مجھے میں ہوں وہی ہم قریہ ٴ...
غزل
طویل بھی ہے فقط صبر آزما ہی نہیں
یہ رات جس میں ستاروں کا کچھ پتا ہی نہیں
نگاہِ دل کو جو رنگِ ثبات سے بھر دے
ابھی وہ پھول کسی شاخ پر کھلا ہی نہیں
جو دیکھتا ہے ،کسی کو نظر نہیں آتا
جو جانتا ہے، اُسے کوئی جانتا ہی نہیں
نظر جہان پہ ٹھہرے تو کس طرح ٹھہرے
اس آئنے میں کوئی عکسِ دل رُبا ہی...
ماشاء اللہ ۔۔۔ ماشاءاللہ ۔۔۔!
کیا بات ہے بھئی۔۔! یہ تو بہت ہی خوشی ہی خبر ہے۔
بہت بہت بہت مبارک ہو علم اللہ بھائی ۔ زبردست کام ہو گیا یہ تو۔
خوش رہیے۔ شاد آباد رہیے۔