بہت ہی خوب امین بھائی ۔۔۔۔! (y)(y)(y)آپ کی اس شاندار روداد کے تحت ہم بھی کچھ نہ کچھ اس محفل میں شریک ہوگئے ورنہ اب تک تو اس معاملے میں ہمارا "ٹوٹل لاس" والا معاملہ تھا۔ :):):)
ویسے "خاکسار تحریک" کی جانب سے پیش کی گئی تصویری روداد بھی لاجواب ہے۔ :D:p
غالباً یہ رات اپنی ظلمت کے باعث صبر آزما ہے جس کا اندازہ دوسرے مصرع سے ہوتا ہے۔ یعنی یہ رات تاریک تو ہے ہی لیکن طویل بھی ہے۔
یعنی مصیبت اور دیر تک نہ ٹلنے والی مصیبت۔
ویسے کبھی شاعرِ موصوف سے ملاقات ہوگی تو اور تفصیل پوچھ لیں گے۔
بالکل ۔ ٹھیک کہا آپ نے۔
:)
کسی زمانے میں فکشن پر مبنی ایک کہانی پڑھی تھی۔ جس میں آج سے سو سال بعد کا منظر نامہ تھا ۔ اور کسی آفاقی تباہی کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے وسائل تباہ ہو گئے تھے۔
اس کہانی میں ایک کردار نے بہت محنت کے بعد بغیر ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر حساب کتاب کرنے کا ہنر سیکھ لیا تھا...
کچھ معاملات میں "جتنا چھانو، اُتنا کرکرا ہو" والا معاملہ ہوتا ہے۔ :)
ویسے راوی خود بھی کٹھہرے میں کھڑے ہونے سے ڈر رہا تھا جبھی یہ تحریر محفل میں 15 بیس دن تاخیر سے پہنچی۔:) لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ :cry:
بھولتے کو گوگل کا سہارا
ٹیکنالوجی رحمت یا۔۔۔
یوں تو ہم ٹیکنالوجی کو رحمت ہی سمجھتے ہیں ۔ لیکن کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ یہ ہمیں ناکارہ کرنے کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔
جب سے ہم ایم ایس ورڈ پر لکھنے لگے ہیں تب سے ہاتھ سے لکھنا اتنا مشکل لگتا ہے کہ پوچھیں مت۔ پھر نہ لکھنےکی وجہ سے تحریر بھی کافی...
بلاشبہ ! اب یہ کتاب میرے پاس نہیں ہے حالانکہ بار بار پڑھنے کی چیز ہے۔
سراج اورنگ آبادی کی خوبصورت غزل "خبرِ تحیرَ عشق سن" بھی ہم نے پہلی بات اسی کتاب میں پڑھی تھی۔
بالکل ۔
کل سے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ہم جب ایک جملہ لکھتے ہیں تو ہر اسپیس کے ساتھ دائیں جانب سے جملہ انڈینٹ ہوتا جاتا ہے۔
کبھی رینڈرنگ بھی اسی شکل میں ہو جاتی ہے اور کبھی ٹھیک رہتی ہے۔