آداب امین صاحب۔
آپ کی محبت ہے جو یاد رکھا ۔ ورنہ من آنمم کہ من دنم ۔
نظم کی بابت عرض ہے کہ یہ نظم اک خاص موقع پر کہی گی تھی ۔
نہ اس میں نظمیت ہے ، نہ آفاقیت اور نہ ہی چونکائیت ۔۔ بس یوں
خیال کیجئے کہ ایک منظوم جواب تھا اور بس ۔۔ بات ہوتی رہے کی وجہ کر
یہاں پیش کری ۔۔ کہ تقریب کچھ تو...
بات کیا کروں ان سے دل کو چھیل دیتے ہیں
چند تیز جملے اور پھر طویل خاموشی
گفتگو کے باہر کچھ دائرے سے رقصاں ہیں
دائروں کےباہر ہے مستطیل خاموشی
اس نے اپنی جانب سے برہمی کو اپنا یا
اور میری جانب سے تھی وکیل خاموشی
زاہد حسین (کراچی)
غزل
یہ روشنی کا جو ہے سلسلہ ہمارے ساتھ
تو چل رہا ہے کوئی آئینہ ہمارے ساتھ
یہ ہاتھ یونہی تکلف میں اٹھ گئے ورنہ
جو ہوتا آیاہے ، ہوگا سدا ہمارے ساتھ
کسی میں کوئی ادا تھی کسی میں کوئی ہنر
پہ کون چار قدم چل سکا ہمارے ساتھ
مگر یہ بات ، کسی اور سے نہیں کہنا
ہمارا ربط نہیں رہ سکا...
چلیے ٹھیک ہے بات تو ایک ہی ہے ۔۔ مگر آپ ڈائریکٹ والے آدمی ہیں۔
خیر ۔۔ میں خرمن سے آپ کی غزل ’’یہ جو روشنی کا ہے سلسلہ ہمارے ساتھ ‘‘ پیش کررہا ہوں دیکھ لیجئے گا۔