کبھی یہ گلہ ہمیں بھی تھا خیر ۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہو گا کہہ کر دل کو تسلی دی اور ڈھیٹ بن کے یہیں پڑے آج تک ۔
بلکہ ہم نے تو باقائدہ رونا دھونا شروع کردیا تھا ۔۔۔۔۔ خیر ۔۔ ہم نے بھی ’’ ڈھٹائی اور بے شرمی‘‘ کا مظاہرہ کیا کہ آج یہ لکھاآتا ہے کہ :