نتائج تلاش

  1. کاشفی

    امیر مینائی خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ - امیر مینائی

    شکریہ محمد وارث صاحب۔۔۔خوش رہیں۔۔
  2. کاشفی

    امیر مینائی کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر - امیر مینائی

    شکریہ محمد وارث صاحب۔۔۔ خوش رہیں۔ شکریہ سخنور صاحب۔۔۔۔
  3. کاشفی

    داغ مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خوش - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) مری موت خواب میں دیکھ کر ہوئے خوب اپنی نظر سے خوش اُنہیں عید کی سی خوشی ہوئی، رہے شام تک وہ سحر سے خوش کبھی شاد درہم داغ سے کبھی آبلوں کے گُہر سے خوش یہ بڑی خوشی کا مقام ہے غمِ ہجر یار ہے گہر سے خوش اُنہیں بزم غیر میں تھا گماں کہ یہ سادہ لوح بہل...
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    قطع ہو جائے اگر سلسلہء مہر و وفا پھر گرفتار نہیں ہے کوئی ، آزاد ہیں سب (آتش)
  5. کاشفی

    امیر مینائی کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر - امیر مینائی

    شکریہ سخنور صاحب۔۔۔ سخنور صاحب پلیز آپ تصحیح کردیں میرے پاس ایسے ہی لکھا ہوا ہے۔۔۔۔ رہنمائی فرمائیں۔۔
  6. کاشفی

    امیر مینائی خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ - امیر مینائی

    شکریہ سخنور صاحب۔۔ میں نے دوبارہ دیکھا ہے۔۔آپ پلیز نشاندہی کریں اور تصحیح بھی فرما دیں۔۔شاید میرے پاس صحیح نہیں لکھا ہوا ہو۔۔
  7. کاشفی

    امیر مینائی کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر اِدھر کی نہ ہوجائے دنیا اُدھر کو زمانے...
  8. کاشفی

    امیر مینائی خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ ناز اُٹھانے کا ہے...
  9. کاشفی

    فارسی شاعری وای آں دل کہ در آں مہرِ بلوچاں نَبوَد - ضیا بلوچ

    عمدہ انتخاب ہے جناب۔۔شکریہ شریک محفل کرنے کے لیئے۔۔
  10. کاشفی

    امیر مینائی عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے - امیر مینائی

    شکریہ سخنور صاحب۔۔تصحیح کے لیئے بھی شکریہ۔۔
  11. کاشفی

    مجاہدینِ بلوچستان - مولانا ظفر علی خاں

    مجاہدینِ بلوچستان (مولانا ظفر علی خاں - 1934ء ) مردانِ مجاہد ہیں گردانِ بلوچستان دبتے نہیں باطل سے شیرانِ بلوچستان جس وقت سے قاسم نے گاڑا ہے یہاں جھنڈا لغزش میں نہیں آیا ایمانِ بلوچستان کیا لائیں گے خاطر میں خُم خانہء لندن کو مست مَے یثرب ہیں رندانِ بلوچستان خونِ رگِ بطحا سے...
  12. کاشفی

    انشا اللہ خان انشا پھنس گئے عندلیب ہو بیکس - سید انشا اللہ خان انشا

    سخنور صاحب اور محمد وارث صاحب آپ دونوں کا بیحد شکریہ غزل کی پسندیدگی کے لیئے۔۔۔ :)
  13. کاشفی

    امیر مینائی فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے - امیر مینائی

    سخنور صاحب اور محمد وارث صاحب آپ دنوں کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔۔
  14. کاشفی

    امیر مینائی تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی - امیر مینائی

    شکریہ محمد وارث صاحب۔۔
  15. کاشفی

    مبارکباد سعود بھیا کے گھر آئی ننھی پری ۔۔۔

    مبارک ہو بہت بہت۔۔ ۔۔ اللہ رب العزت دین و دنیا میں آخرت میں کامیاب و کامران کرے۔۔آمین
  16. کاشفی

    امیر مینائی فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے - امیر مینائی

    تصحیح فرمانے کے لیئے بیحد شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔
  17. کاشفی

    امیر مینائی فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے کبھی اس گھر میں آنکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا...
  18. کاشفی

    امیر مینائی عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے ادائیں کھیلتی ہیں رنگ، تلوار اُس نے کھولی ہے لہو کی چلتی ہیں پچکاریاں، مقتل میں ہولی ہے بہار آئی، چمن ہوتا ہے مالا مال دولت سے نکالا چاہتے ہیں زرگرہ غنچوں نے...
  19. کاشفی

    امیر مینائی کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟ - امیر مینائی

    غزل (امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ) کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟ غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے اُس کو سمجھاتے نہیں جاکے کسی دن ناصح روز آتے ہیں مجھ ہی کو یہ نصیحت کرنے تیر کے ساتھ چلا دل، تو کہا میں نے، کہاں؟ حسرتیں بولیں کہ، مہمان کو رخصت کرنے آئے میخانے میں، تھے پیرِ...
Top