پلے نہ بھی پڑے تو کوئی بات نہیں۔یہ جو ہم اکثر ایسی زبانوں کی موسیقی سنتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے،صرف موسیقی کے لیے سنتے ہیں ناں۔یہ بھی ایسی ہی بات ہے۔ویسے مجھے اس کا انداز بہت پسند آیا ہے۔خاص کر یہ شعر مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔
گم کردہ راہِ منزلِ خود کاروانِ ما
بازش بہ لطف از رہِ منزل خبر بدہ
دوستو!یہ شعر میں نے کئی سال پہلے کہیں پڑھا تھا۔کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کس کا ہے؟اور اگر پوری غزل مل سکے تو کیا کہنے۔شعر ہے:
سامنے ہے تو،بتلا کہ تو کہاں ہے
کس طرح سے تجھ کو دیکھوں،نظارہ درمیاں ہے۔