لحظہ بہ لحظہ ، دم بدم ، جلوہ بہ جلوہ، آئے جا
تشنہء حسن ذات ہوں، تشنہ لبی پڑھائے جا
لطف سے ہوکہ قہر سے ہو، ہوگا کبھی تو روبرو
اس کا جہاں پتہ چلے شور وہیں مچائے جا
(جگر)
ہجومِ تجلّی سے معمور ہوکر
نظر رہ گئی شعلہء طور ہو کر
مجھ ہی میں رہے مجھ سے مستور ہوکر
بہت پاس نکلے بہت دور ہوکر
ترے حسنِ مغرور سے نسبتیں ہیں
کہیں ہم نہ رہ جائیں مغرور ہوکر
(جگر)