نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اب وہ ملتے بھی ہیں تو یوں کہ کبھی ہم سے کچھ واسطہ نہ تھا گویا گلشنِ حسنِ یار کی حسرت جانفزا کس قدر ہے آب وہوا (حسرت)
  2. کاشفی

    حسرت موہانی نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا - حسرت موہانی

    غزل (حسرت) نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا محبت کا یہ بھی ہے کوئی قرینا وہ کیا قدر جانیں دل ِ عاشقاں کی نہ عالم، نہ فاضل، نہ دانا، نہ بینا وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں، جو دل میں تمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینا یہ کیا قہر ہے ہم پہ یارب کہ بے مے گزر جائے ساون کا یوں ہی مہینا بہار...
  3. کاشفی

    حسرت موہانی چھپ کے اس نے جو خودنمائی کی - حسرت موہانی

    غزل (حسرت) چھپ کے اس نے جو خودنمائی کی انتہا تھی یہ دل ربائی کی مائلِ غمزہ ہے وہ چشمِ سیاہ اب نہیں خیر پارسائی کی دام سے اُس کے چھوٹنا تو کہاں یاں ہوس بھی نہیں رہائی کی ہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش صلح میں شان ہے لڑائی کی اس تغافل شعار سے حسرت ہم میں طاقت نہیں جدائی کی
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بے ذوقِ نظر بزمِ تماشہ نہ رہے گی منہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گی (شوکت علی خاں فانی)
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہوتا نہیں اب اُن کی محفل میں شمار اپنا یوں بیٹھے ہیں ہم جیسے اُٹھ سے گئے محفل سے (شوکت علی خاں فانی)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    سمائیں آنکھ میں کیا شعبدے قیامت کے مری نظر میں ہیں جلوے کسی کے قامت کے (شوکت علی خاں فانی)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا اک معمہ ہے نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا مختصر قصہء غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا ہر نفس عمرگزشتہ کی ہے میّت فانی زندگی نام ہے مرمر کے جئے جانے کا (شوکت علی...
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نہ آنا تھا اجل تجھ کو فہم ہے وقتِ آخر تک ابھی کچھ عمر باقی ہے اُسے بھی رائگاں کر لیں (نظم طباطبائی)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کہاں تک راستہ دیکھا کریں ہم برق و خرمن کا لگا کر آگ دیکھیں گے تماشا اب نشمین کا (نظم طباطبائی)
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کیا کہوں کام پڑا ہے مجھے نادانوں سے جانچتے عشق کو ہیں عقل کے پیمانوں سے (پنڈت امرناتھ مدن ساحر)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دل ہے بُت خانہء اصنامِ خیالی ساحر تو وہ کافر ہے کہ بھولے سے مسلماں نہ ہوا (پنڈت امرناتھ مدن ساحر)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا تمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکا روش بدل گئی تیور ترے نہیں بدلے قیامت آئی مگر انقلاب ہو نہ سکا (سعید احمد ناطق لکھنوی)
  13. کاشفی

    کیک سے کاٹی ہوئی ایک نظم ۔ ذکریا شاذ

    عمدہ انتخاب ہے جناب سخنور صاحب! شریکِ محفل کرنے کے لیئے بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
  14. کاشفی

    زندگی سے نباہ کرتے ہوئے ۔ بلال احمد

    بہت ہی عمدہ جناب سخنور صاحب۔۔
  15. کاشفی

    معروف شاعر راغب مراد آبادی وفات پا گئے

    اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ ۔ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا کرے۔۔آمین۔
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    محفل ِ مے میں ہیں زاہد کے فرشتے بھی شریک یہ تکلف تو نہ تھے بزم میں ہم سے پہلے (ریاض احمد ریاض خیر آبادی)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نہ روکے طور تو ہم جائیں عرش سے اونچے ہماری راہ سے پتھر ذرا ہٹا دینا (ریاض احمد ریاض خیر آبادی)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دے کے ساغر مجھے کس لطف سے ساقی نے کہا “دیکھتے جاؤ ابھی ہم تمہیں کیا دیتے ہیں“ (مرزا کاظم حسین محشر لکھنوی)
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اک جھلک اُن کی دیکھ لی تھی کبھی وہ اثر دل سے آج تک نہ گیا (سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی)
  20. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اللہ بچائے مرضِ عشق سے دل کو سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا (سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی)
Top