نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    عشق کا نام لیا ہے تو ہو بہتر انجام اب تو بدنام نہ ہونے میں بھی رُسوائی ہے (وحید الہ آبادی)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اے دل تجھے رونا ہے تو دل کھول کے رو لے دنیا سے نہ بڑھ کر کوئی ویرانہ ملے گا (وحید الہ آبادی)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تمنّاؤں میں اُلجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ہوں اس کوچے کے ہرذرّے سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں نہیں اُٹھتے قدم کیوں جانبِ دیر کس مسجد میں بہکایا گیا ہوں دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں (سید علی محمد شاد عظیم آبادی)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں سوالِ وصل کر کے اس ادا پر مٹ گیا ہنس کے فرمایا کہ یہ درخواست نا منظور ہے (حیات بخش رسا بلند شہری)
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    محوِ حیرت ہیں تو دونوں ہیں تری محفل میں ہم سے پردا ہوا ، آئینے سے پردا نہ ہوا (حیات بخش رسا بلند شہری)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    خواب میں بھی نظر بھر کے نہ دیکھا اُن کو یہ بھی آدابِ محبت کو گوارا نہ ہوا (حیات بخش رسا بلند شہری)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بے عذر وہ کرلیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر یہ اہلِ مروّت ہیں تقاضا نہ کریں گے (شیفتہ)
  8. کاشفی

    جگر وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی ، نظر میں اب تک سما رہے ہیں - جگر

    بہت بہت شکریہ سخنور صاحب ! بہت بہت شکریہ جناب وارث صاحب!
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یہ عجیب شعبدہ ہے یہ عجیب ماجرا ہے کہ جس آنکھ میں ہے شوخی اسی آنکھ میں حیا ہے (معشوق حسین اطہر ہاپوڑی)
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہم وہ ہیں ہم پہ شانِ کریمی کو ناز ہے زاہد نہ چھیڑ ہم کو گنہگار دیکھ کر (معشوق حسین اطہر ہاپوڑی)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وعدہ دبی زبان سے وہ کر کے ہنس پڑے شوخی نے رخنہ ڈال دیا ہے نباہ میں (معشوق حسین اطہر ہاپوڑی)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    زاہد کو میکدے میں کوئی پوچھتا نہیں پھر اس پہ یہ غرور کہ میں برگزیدہ ہوں (معشوق حسین اطہر ہاپوڑی)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وہ تو روٹھے ہیں مگر لوگوں سے پوچھتے حال ہیں اکثر میرا (نظام شاہ نظام رام پوری)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ربط غیروں سے بڑھا مجھ سے وفا چاہتے ہو دل میں سمجھو کہ یہ کیا کرتے ہو کیا چاہتے ہو عشوہ و ناز و ادا طعن سے کہتے ہیں مجھے “ایک دل رکھتے ہو کس کس کو دیا چاہتے ہو“ (خیر الدین یاس شاگرد مومن)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جھپکی تھی ذرا آنکھ کہ وہ خواب میں آئے اس رات کو اب میں شبِ غم کہہ نہیں سکتا (مرزا عبدالتقی بیگ مائل دہلوی)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وصل کے لُطف اُٹھاؤں کیونکر تاب اس جلوے کی لاؤں کیونکر یاد نے جس کی بھلایا سب کچھ اس کی میں یاد بھلاؤں کیونکر (شیفتہ)
  17. کاشفی

    حسرت موہانی بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں - حسرت موہانی

    غزل (حسرت) بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیونکریاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیتِ صہبا کے افسانے شرابِ بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشتِ خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں نہیں آتی تو یاد اُن کی...
  18. کاشفی

    جگر وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی ، نظر میں اب تک سما رہے ہیں - جگر

    نظم نما غزل:) (جگر) وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی ، نظر میں اب تک سما رہے ہیں یہ چل رہے ہیں وہ پھر رہے ہیں، یہ آرہے ہیں وہ جارہے ہیں وہی قیامت ہے قد بالا، وہی ہے صورت وہی سراپا لبوں کو جنبش، نگہ کو لرزش، کھڑے ہیں اور مُسکرارہے ہیں وہی لطافت، وہی نزاکت، وہی تبسم، وہی ترنم میں نقش حرماں بنا...
Top