غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھا
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
شبِ فراق میں کیوں یارب انقلاب نہ تھا
یہ آسمان نہ تھا یا یہ آفتاب نہ تھا
لحاظ ہم سے نہ قاتل کا ہوسکا دمِ قتل
سنبھل سنبھل کے تڑپتے وہ اضطراب نہ تھا
اُسے جو شوقِ سزا ہے مجھے...
غزل
(جگر مراد آبادی)
کام آخر جذبہء بے اختیار آہی گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا، اُن کو پیار آہی گیا
جب نگاہیں اُٹھ گئیں، اللہ رے معراجِ شوق
دیکھتا کیا ہوں وہ جانِ انتظار آہی گیا
ہائے یہ حسنِ تصور کا فریبِ رنگ و بو
میں یہ سمجھا جیسے وہ جانِ بہار آہی گیا
ہاں سزا دے اے خدائے شوق، اے...
غزل
(جگر مراد آبادی)
ایک رنگیں نقاب نے مارا
حُسن بن کر حجاب نے مارا
جلوہء آفتاب کیا کہیئے
سایہء آفتاب نے مارا
اپنے سینے ہی پر پڑا اکثر
تیر جو اضطراب نے مارا
نگہء شوق و دعویٰء دیدار
اس حجاب الحجاب نے مارا
ہم نہ مرتے ترے تغافل سے
پرسش بے حساب نے مارا
لذت دید بے جمال نہ پوچھ...
غزل
(جگر مراد آبادی)
عشق کو بے نقاب ہونا تھا
آپ اپنا جواب ہونا تھا
مست جام شراب ہونا تھا
بے خود اضطراب ہونا تھا
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھ ہی کو خراب ہونا تھا
آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے
ہوچکا جو عتاب ہونا تھا
کوچہء عشق میں نکل آیا
جس کو خانہ خراب ہونا تھا
مست جام...