نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہم کو لاکھوں بُرے بھلوں میں ملے اور ہزاروں بھلے بُروں میں ملے جاہلوں میں نہیں ملے اتنے جتنے جاہل پڑھے لکھوں میں ملے (منور آغا)
  2. کاشفی

    اصغر گونڈوی عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے - اصغر حسین اصغر گونڈوی

    فاتح صاحب، محمد وارث صاحب، الف عین صاحب اور سخنور صاحب آپ سب کا بیحد شکریہ۔ خوش رہیں۔
  3. کاشفی

    افتخارِ فکر و فن (فیض احمد فیض کی یاد میں)- مومن خاں شوق

    افتخارِ فکر و فن (فیض احمد فیض کی یاد میں) مومن خاں شوق وہ رازدانِ علم و فن، ادب نواز شخصیت وہ افتخارِ فکر و فن روایتوں کا گل ستاں، شرافتوں کی انجمن اور اس کی زندگی تمام حوصلوں کا بانکپن ورق ورق حدیثِ گُل، کتابِ آرزو تمام لکھا کیا قلم قلم، وفا کی داستانِ غم نگر نگر پھرا کیا، شاعری...
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ساری دنیا سے دوستی کر لے جس کو رہنا ہو عمر بھر تنہا (صبا اکبر آبادی)
  5. کاشفی

    مصحفی غزل - شب وہ ان آنکھوں کو شغل اشکباری دے گئے -غلام ہمدانی مصحفی

    بہت خوب۔۔شکریہ بہت بہت شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کیا ڈھونڈھتے ہو فصلِ خزاں میں بہار کو اب وہ چمن کہاں ہے وہ رنگِ چمن کہاں (مولانا محمد علی جوہر)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہم تو سمجھے تھے کہ ہوں گے اور بھی ظلم و ستم حوصلہ کچھ بھی نہ نکلا آپ کی بیداد کا (مولانا محمد علی جوہر)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    خستگی نے کردیا اس کو رگِ جاں سے قریب جستجو ظالم کہے جاتی ہے منزل دور ہے (اصغر حسین اصغر گونڈوی)
  9. کاشفی

    اصغر گونڈوی عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے - اصغر حسین اصغر گونڈوی

    غزل (اصغر حُسین اصغر گونڈوی) عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے ساری خطا مرے دلِ شورش ادا کی ہے مستانہ کررہا ہوں رہِ عاشقی کو طے کچھ ابتداء کی ہے نہ خبر انتہا کی ہے کھِلتے ہی پھول باغ میں پژمردہ ہو چلے جنبشِ رگ بہار میں موجِ فنا کی ہے ہم خستگانِ راہ کو راحت کہاں نصیب آواز کاں میں ابھی...
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تپش جو شوق میں تھی وصل میں بھی ہے وہی مجھ کو چمن میں بھی وہی اک آگ ہے جو تھی نشمین میں مری وحشت پہ بحث آرائیاں اچھی نہیں ناصح بہت سے باندھ رکھے ہیں گریباں میں نے دامن میں (اصغر حُسین اصغر گونڈوی)
  11. کاشفی

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (3)

    ایک مدّت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں (رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری)
  12. کاشفی

    ہوگئی اک بات ناصح دل کے آجانے کی بات - سید شرف الدین یاس ٹونکی

    غزل (سید شرف الدین یاس ٹونکی) ہوگئی اک بات ناصح دل کے آجانے کی بات کہنے سننے کا ہے کچھ موقع نہ سمجھانے کی بات ہے مری عرضِ تمنّا اُن کے شرمانے کی بات اور شرمانا ہے اُن کا میرے مٹ جانے کی بات بات کیا کرتے مجھے صورت دکھا کر چل دئیے کہہ گئے آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ کہہ جانے کی بات...
  13. کاشفی

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (3)

    اس نے کی دل سے وفا تم نے نہ کی تم سے پھر اچھا تمہارا غم رہا (سید شرف الدین یاس ٹونکی)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دل کو کسی کا تابعِ فرماں بنائیے دشواری حیات کو آساں بنائیے درماں کو درد، درد کو درماں بنائیے جس طرح چاہئیے مجھے حیراں بنائیے آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجئے گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے (علی سکندر جگر مراد آبادی)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تم مجھ سے چھوٹ کر رہے سب کی نگاہ میں میں تم سے چھوٹ کر کسی قابل نہ رہا (علی سکندر جگر مراد آبادی)
  16. کاشفی

    جون ایلیا خوش گُزَرانِ شہرِ غم، خوش گُزَراں گزر گئے ۔ جون ایلیا

    عمدہ انتخاب ۔ بہت شکریہ شریکِ محفل کرنے کےلیئے۔
  17. کاشفی

    جگر ملا کے آنکھ نہ محرومِ ناز رہنے دے - جگر مُراد آبادی

    غزل (جگر مراد آبادی) ملا کے آنکھ نہ محرومِ ناز رہنے دے تجھے قسم جو مجھے پاک باز رہنے دے میں اپنی جان تو قربان کرچکوں تجھ پر یہ چشمِ مست ابھی نیم باز رہنے دے گلے سے تیغِ ادا کو جدا نہ کر قاتل! ابھی یہ منظر راز و نیاز رہنے دے یہ تیرناز ہیں تو شوق سے چلائے جا خیالِ خاطر اہلِ نیاز رہنے دے...
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہمارے ہی دل سے مزے اُن کے پوچھو وہ دھوکے جو دانستہ ہم کھا رہے ہیں (علی سکندر جگر مراد آبادی)
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ابتدا وہ تھی کہ تھا جینا محبت میں محال انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہوگیا (علی سکندر جگر مراد آبادی)
  20. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں تری آرزو ہے اگر جرم کوئی تو اس جرم کی میں سزا چاہتا ہوں (حسرت)
Top